چینی اساتذہ کے قتل پر غم منائیں یا تعلیم یافتہ خاتون کے سوسائٹ بمبر بننے پر۔
چینی اساتذہ کے قتل پر غم منائیں یا ایک تعلیم یافتہ خاتون کے سوسائٹ بمبر بننے پر۔
ریاست بتائے آخر کب تک؟
انتہائی دکھ اور افسوس کہ ساتھ لکھنا پڑھ رہا ھے کہ ریاست مفاد پرستوں کے ہاتھ میں یرغمال بنی ھوئی ھے۔
کسی کو پرواہ ہی نہیں کہ بلوچستان کی عوام اس دھیج پر کیوں پہنچ چکی ھے۔ ادارے نام نہاد آپریشن کے نام پر کئی احتجاج کرنے والے بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے میں مصروف ھے۔
عدالتوں میں زیر التواء مقدمات میں ادارے رپورٹ پیش کرنے سے کترا رہے ھیں۔ عدالتیں تاریخ پے تاریخ دے رہی ھیں۔
ان سب حالات میں ایک پڑھی لکھی خاتون کا یوں شدت پسندی کی طرف جانا جائز تصور کیا جائے۔
کیونکہ کسی بھی مظلوم کے پاس احتجاج کے بعد آخری حل ہتھیار اُٹھانا ہی رہ جاتاھے۔
ریاست بلوچستان کے حوالے سے اپنی پالیسی کا جائزہ لے کے آخر کہاں غلطی ھوئی۔ ورنہ خواتین کا یوں شدت پسندی پر اتر آنا حالات کی سنگینی کا اشارہ دیتاھے۔
دعا گو ھوں کہ یہ ریاست ہمیشہ قائم ودائم رہے ۔



Comments
Post a Comment