پہلے اخبار لکھ کر بکتا تھا اب اخبار بِک کر لکھتا ہے۔

 پہلے اخبار لکھ کر بکتا تھا۔

اب اخبار بِک کے لکھتا ھے۔


دو سال جنرل یحیٰی خان کے اور تین سال بینظیر بھٹو صاحبہ کے علاؤہ پاکستان کی تاریخ میں میڈیا کبھی بھی آزاد نہیں رہا۔


یہ وہ دور رہیے ھیں جب میڈیا کو مکمل آزادی تھی۔

جنرل ایوب خان کا دور میڈیا کیلئے سب سے مشکل ترین دور تصور کیا جاتا تھا لیکن موجود دور حکومت میں بھی صحافی حضرات سراپا احتجاج ھیں۔ کئی بڑے میڈیا گروپس سے صحافیوں کو نوکریوں سے فراغ کیا گیا ھے۔

بحثیت میڈیا سٹوڈینٹ مجھے نہیں لگتا کہ موجود دور میں صحافت کیلئے کوئی خاص مشکل ھے۔

صحافی ہر خبر پہنچا سکتا ھے یہ الگ بات ہے کہ جس خبر کے پہلے دور میں وہ لاکھوں کماتے تھے اب وہ بات نہیں لیکن خبر بیچنے کے بجائے پہنچانے کی بات کی جائے تو ہر صحافی آزاد ھے۔

پاکستان میں 46 ملین سوشل میڈیا یوزر ھیں اور موجودہ دور میں خبر پہنچانے کا سب سے تیز ترین ذریعہ سوشل میڈیا ھے۔

Comments